حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ سکردو بلتستان پاکستان میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ شعبۂ پاکستان کے زیرِ اہتمام "روشِ تحقیق اور فنِ تحریر" کے عنوان سے تین روزہ تحقیقی ورکشاپ کا انعقاد ہوا؛ ورکشاپ میں طالبات نے بھرپور شرکت کی۔
ورکشاپ کے مدرس شعبۂ تحقیق جامعۃ المصطفیٰ کراچی کے مسئول، شیخ سکندر علی بہشتی تھے، جنہوں نے مختلف علمی اور عملی نشستوں کے ذریعے طالبات کو تحقیق و تحریر کے بنیادی اصولوں سے روشناس کروایا۔

ان ورکشاپس کا بنیادی مقصد، طالبات میں مطالعے، تحقیق اور تحریر کا ذوق پیدا کرنا، انہیں تحقیق کے اصول و ضوابط سے آگاہ کرنا اور عصرِ حاضر کے علمی و تحقیقی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔
ورکشاپ کی کلاسیں روزانہ صبح 9:00 بجے سے شام 6:00 بجے تک جاری رہیں، جن میں مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کی طالبات نے بھرپور دلچسپی، شوق اور انہماک کے ساتھ شرکت کی۔
ورکشاپ کے افتتاحی سیشن کا آغاز حضرت امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے اس حکیمانہ فرمان سے کیا گیا: ہر انسان کی قدر و قیمت اس کے علم، ہنر اور کارکردگی کے مطابق ہوتی ہے۔
اس کے بعد تحقیق، تدریس اور تبلیغ کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر طالبات کو تحقیق کی ضرورت، افادیت، بنیادی اصول، تحقیق کے مراحل اور درست طریقۂ کار سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا گیا۔

ورکشاپس میں تاریخ کے ممتاز محققین کا تعارف پیش کیا گیا، جبکہ رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای کے افکار کی روشنی میں علمی تحقیق کی اہمیت، قلم کی ذمہ داری اور محقق کے کردار پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
ورکشاپس کے عملی حصے میں طالبات سے مضمون نویسی کی مشق کروائی گئی۔ اس کے ساتھ مختلف علمی مجلات، تحقیقی جرائد، اخبارات، مقالات اور کتابوں کے نمونے پیش کیے گئے، تاکہ طالبات کو عملی طور پر تحقیقی مواد سے آشنائی حاصل ہو۔
کلاسوں کے دوران زندگی نامہ نگاری، مضمون نویسی، کالم نگاری، خلاصہ نویسی، کہانی نویسی، ڈائری نویسی، سفرنامہ نگاری اور مقالہ نویسی کے بنیادی اصول اور عملی طریقۂ کار بھی تفصیل سے بیان کیے گئے۔
اس موقع پر رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای کی شخصیت و افکار پر تحقیق کے لیے مختلف موضوعات تجویز کیے گئے اور متعلقہ کتب کا تعارف بھی کروایا گیا، تاکہ طالبات علمی و تحقیقی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔










آپ کا تبصرہ